ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / آپ ممبر اسمبلی دہلی حکومت کے دائرۂ اختیار پر وضاحت کامطالبہ کر سکتے ہیں

آپ ممبر اسمبلی دہلی حکومت کے دائرۂ اختیار پر وضاحت کامطالبہ کر سکتے ہیں

Sun, 21 Aug 2016 19:57:16    S.O. News Service

نئی دہلی، 21؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پیر سے شروع ہو رہے دہلی اسمبلی کے چار روزہ اجلاس میں حکمران عام آدمی پارٹی(آپ) کے رکن اسمبلی دہلی حکومت اورلیفٹیننٹ گورنر کے دائر اختیار پر وضاحت کامطالبہ کر سکتے ہیں اور حکومت سے اس معاملے پر سپریم کورٹ جانے کی اپیل کرسکتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد اسمبلی کے دائرہ اختیار کو لے کر پارٹی اراکین اسمبلی کے درمیان غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ہائی کورٹ نے رواں مہینے کے آغاز میں اپنے فیصلہ میں شہر کی انتظامیہ میں لیفٹیننٹ گورنر کی بالادستی پر مہر لگائی تھی۔آپ ممبران اسمبلی کی گرفتاری کا مسئلہ بھی حکمراں پارٹی کے اراکین کی طرف سے اٹھائے جانے کی امید ہے۔ایک پارٹی لیڈر نے کہاکہ عدالت کے حکم کے بعد زیادہ تر ممبران اسمبلی اسمبلی اور حکومت کے اختیارات کولے کر شک میں ہیں اور وہ اس معاملے پر وضاحت چاہتے ہیں۔اسی کے پیش نظر وہ ایوان میں ایک تجویز پیش کر کے دہلی حکومت سے سپریم کورٹ جانے کی اپیل کریں گے۔راجوری گارڈن کے آپ کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد رکن اسمبلی دہلی اسمبلی اور حکومت کے اختیارات پر مزید وضاحت کا مطالبہ کریں گے۔سنگھ نے کہاکہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلہ کو لے کر شک کا مسئلہ یقینی طور پر اٹھے گا۔ہم دہلی اسمبلی اور حکومت کے حقوق پر مزید وضاحت کامطالبہ کریں گے۔انہوں نے کہاکہ دوسرے مقامات پر حکومت کو بل کو براہ راست اسمبلی کے سامنے پیش کرنے کا حق ہے،لیکن دہلی میں صورت حال مختلف ہے جہاں بل کے لیے لیفٹیننٹ گورنر کی پیشگی اجازت ضروری ہوتی ہے۔کیجریوال حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی۔ہائی کورٹ نے 4 ؍اگست کوفیصلہ سنایا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر دہلی کے انتظامی سربراہ ہیں ۔اس چار روزہ سیشن کے دوران آپ حکومت امبیڈکر یونیورسٹی بل اور لگژری ٹیکس ترمیمی بل بھی پیش کرے گی ،وہیں اپوزیشن بی جے پی وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے قریب دفعہ 144لگانے سمیت مختلف مسائل پر آپ حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گا ۔اپوزیشن لیڈر وجیندر گپتا نے کہا کہ حکومت چلانے میں پیداہوئی عجیب وغریب صورت حال کے لیے ذمہ دار حکمران آپ کی طرف سے کی گئی غیر آئینی کارروائی پر بی جے پی حکمراں پارٹی سے دو دو ہاتھ کرے گی۔


Share: